• الأردن: 00962781409934 - 00962778455550 - 00962791066457, الإمارات: 00971564999475 - 00971501299947 - 00971564880709
  • الجزائر: 0549996833, تونس: 0021695451643, بريطانيا و أوروبا: 00441902871854 - 00447519398225 - 00447517362128 - 00447519398239
  • تركيا: 00905539440472, أمريكا و كندا: 0017735728151 - 0017736162627 - 0018472850055
  • العراق: 07733000696 - 07733598900

دنیا کی سب سے بڑی سائنسی دستاویزی صحت کی ویب سائٹ آپ کے خاندان کی خوشی اور صحت کے لئے، سائنس اور ایمان کے ساتھ ہم توازن کرتے ہیں

98703295

گندم کی گھاس کا عرق ،کنواری زیتون کے تیل اور قدرتی سبب کے سرکے دونوں میں ذیابیطس کی ریڈنگ پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے۔

گندم کی گھاس کا عرق ،کنواری زیتون کے تیل اور قدرتی سبب کے سرکے دونوں میں ذیابیطس کی ریڈنگ پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے۔



کیا خون میں شکر ناپنا آپ کے لئے پریشان کن مسئلہ ہے کیو ں کہ  بے قاعدہ شکر کی مقدار یاتو کھانے سے پہلے یا بعد میں آتی ہے؟  کیا آپ کا طبی ماہر دوائیوں کی خوراکوں اور اوقات کو شکر کی بہترین ریڈنگ حاصل کرنے کے لئے بدلتا رہتا ہےلیکن یہ بیکار ہوتا تھا؟ کیا آپ نیند کے دوران اکثر ہونے والے ہائیپوگلیسیمیا ڈنگ کے حملے کی وجہ سے سونے سے گھبراتے ہیں ؟ 

گندم کی گھاس کا عرق ،کنواری زیتون کے تیل اور قدرتی سبب کے سرکے دونوں میں ذیابیطس کی ریڈنگ پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے۔ 

معمول کے مطابق متوازی غذائی نظام میں ہمارا مقصد ہدف پر نشانہ لگانا اور بیماری کا علاج صحیح طریقے سے کرنا ہے۔ اس کے لئے میکانزم اور عوامل جو بیماری کا باعث بنتے ہیں ان کے بارے میں اچھی معلومات درکار ہوتی ہے۔اسی لئے، ہمیں انسانی جسم  کے خون میں شکر صحیح کرنے کی تھوڑی بہت معلومات اور اس میں شکر کی کیا اقسام ہیں ؟ شکر کا ذریعہ کیا ہے؟

 جسم عام طور پر  گلوکوز حاصل کرتا ہے جب آپ کھانا کھاتے ہیں جو کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہوں پولی ساچرائیڈ کی شکل میں جو چاول یا روٹی یا نوڈلز یا مونو اور ڈس آسشراڈز کی شکل میں پائی جاتی ہیں جو کھانے کی شکر، جام یا پھل وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ دونوں معاملات میں چاہے کھانے پولی ساشرائیڈز  پرمشتمل ہوں گے جو مونو ساشرائیڈز  بناتے ہیں جیسے گلوکوز، فریکٹوز، گالیکٹوز یا وہ مونو اور ڈائی ساشرائیڈز ، نظام انہضام جو منہ سے شروع ہوتا ہے، آب پاشیدگی کے ردعمل کے ذریعے کھانے پر عمل کرتے ہیں۔ ان ردعمل میں شکر آب پاشیدگی کے انزائمز کا اخراج  شامل ہیں جیسا کہ زبانی اور لبلبے امائی لیز، مالتاز، لیکٹاز اور دوسرے جو آخرکار کھانے کی شکر کو آنتوں کے اندر واحد شکر میں بدلنے کا باعث بنتا ہے جو صرف ایک مالیکیول پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ سب سے زیادہ یہ تبدیل شدہ شکر گلوکوز پر مشتمل ہوتی ہے جو توانائی کا پہلاذریعہ سمجھا جاتا ہے اور انسانی جسم کے تمام اعضاء  اور ٹشوز تک خاص طور پر دماغ تک پہنچانے کے لئے خون لیتا ہے۔ اس کی انسولین کی موجودگی میں صرف خلیوں کے داخلے کی صلاحیت ہی اس کی خصوصیت ہے۔ دوسرے مونو ساشارائیڈز جو ہاضمے اور کاربن ہائیڈریٹس کے جذب کرنے کا نتیجہ  فریکٹوز ہے جو  خلیوں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور جگر میں گلوکوزمیں تبدیل ہوسکتا ہے۔انسانی جسم میں کاربوہائیڈریٹس کے کچھ پیچیدہ ڈھانچے  فائبرز کی شکل میں ہیں جو قابل ہضم نہیں ہیں جیسا کہ  سیلولوز لیکن یہ جانوروں میں خاص انزائم کی موجودگی کی وجہ سے قابل ہضم ہیں  جو سیلولوز فائبرکو ہضم کرسکتے ہیں۔چونکہ یہ خاص انزائمز انسانی جسم میں موجود نہیں ہیں، سیلولوز فائبرز آنت میں رہتے ہیں اور باول کے کام کی بہتری میں نمایاں مدد کرتا ہے اور قبض سے بچانے کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے فوائد ہیں۔مونوساشرائیڈز کاربو ہائیڈریٹس کے آنت کے لیومن میں ہاضمہ کا نتیجاہوتے ہیں جو آنت کی دیوار سےجذب کرتے ہیں خون کے بہاؤ میں داخل کرنے کےلئے خو ن کی رگوں میں۔کھانے کی ترتیب کے مطابق خون کی نالیوں میں گلوکوز کی شرح بڑھتی ہے۔

یہاں کھانے کے بلند-شکر-انڈیکس ہیں ، جو تیزی سے آنت کی نالی پر جذب ہوتے ہیں اگر ان پست-شکر-انڈکس غذاؤں سے موازنہ کیا جائے جو سست رفتاری سے جذب ہوتے ہیں ۔ بعد کی غذائیں بتدریج خون میں شکر کے بڑھنی کی وجہ بن سکتی ہیں۔ اسی لئے ذیابیطس کے مریضوں کو پست گلوکوز انڈیکس غذاؤں کا  مشورہ دیا جاتا ہے۔ تمام صورت حال میں خون میں شکر کا داخلہ لبلبے کو انسولین  چھوڑنے کے لئے اجازت کا اشارہ  سمجھا جاتا ہے۔ 

یہ ہارمون گلوکوز (پہلے توانائی کے ذرائع)کے ٹشوز اور خلیوں میں خاص کر جگر اور پٹھوں کے خلیوں میں داخلے کے لئے سہولت دیتے ہیں۔پھر گلوکوز توانائی پیداکرنے والے ان خلیوں میں تبادلہ کرتا ہے جو مٹوکونڈریا  کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پس،گلوکوز آکسیجن کی موجودگی میں ATP مالیکیول کی شکل میں توانائی حاصل کرنے کے لئے بکھر جاتے ہیں۔

"

"تو ذیابیطس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ تالا اور چابی کے نمونے کے مطابق انسولین عام طور پر خلیوں میں گلوکوز کے داخلے میں ان  خلیوں کی سطح پر انسولین وصول کنندہ کو پابند کرنے کی  سہولت دیتی ہے ۔اگر انسولین ناکافی ہے یا مکمل غائب ہے یا اگر وصول کنندہ غیر مؤثر ہیں (انسولین کی مزاحمت - وصول کنندگان سے انسولین) تو گلوکوز خلیوں اور ٹشوز میں داخل نہیں ہوسکتی ہے۔ یہ زیادہ تر لوگوں کی اکثریت میں ہوتا ہے جو موٹاپے اور میٹابولک سنڈروم میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان تمام حالات میں، گلوکوز خلیوں میں صرف تھوڑا ہی داخل ہوتا ہے اور اس کی اکثریت خون میں رہتی ہےجو معمول سے بلند خون کی سطح کا باعث بنتی ہے اور یہی ہے جسے بحیثیت ذیابیطس کے جانتے ہیں۔ خون میں شکر کا اس کی معمول کی سطح سے بڑھنا  خون میں شکر کی سطح کے لئے گردوں کی ابتدائی حدود کو بڑھانے کا باعث ہوگا جس سے گلوکوز پیشاب کے ساتھ خارج ہوتا ہے۔ 

جس کے نتیجے میں بار بار پیشاب آنا اور پھر پیاس اور  اکثر پانی پینا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، شکر کا جمع ہونا زہریلے مادوں میں تبدیل ہوجاتا ہے جیسے سوربیٹول اور فرکٹوس۔ جسم کے اعضاء میں ان اجزاء کا جمع ہونا  جیسا کہ پیشاب کے ساتھ پروٹین کے اخراج سے آنکھوں یا گردوں کی خون کی رگوں میں ان کا جمع ہوناآنکھ کے پردے کےعلیحدہ ہونے اور گردے خراب ہونے کا باعث ہوگا۔اس کے علاوہ اعصاب میں شکر کا جمع ہونا، جو پیشاپ پر اور جنسی افعال کو قابو کرتے ہیں جسمانی اور وسکیرل نیروپیتھی کی وجہ بنتے  ہیں۔اس کے علاوہ ان اجزاء کا اہم رگوں میں جمع ہونا ایتھروسلیروسس کا باعث بنتا ہے۔اسی لئے ذیابیطس ایتھروسلیروسس کے لئے ایک بڑا عنصر ہے۔ (American Diabetes Association, 2010).
"ہم تصدیق کرتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں میں معمول کی سطح کے اندر خون میں شکر کی مقدار صحیح کرنا ممکن ہے، دونوں قدرتی کنواری زیتون کے تیل میں جڑی بوٹی گندم کی گھاس کا عرق اور قدرتی سیب کے سرکے میں جڑی بوٹی گندم کی گھاس کے آبی عرق  سے ذیابیطس کی ریڈنگز پر قابو پانے کے لئے اور شکر کو معمول کی سطح میں رکھنے کے لئے  انہوں نے چوہوں پراپنے مطالعے میں خون میں شکر کی سطحوں کی کمی میں گندم کی گھاس کو نمایاں کردار دیکھاتا ہےانسولین کی پیداوار کے متحرک ہونے سے لبلبے میں  لینگیرہانس –آئیلینڈ کے خلیوں بیٹا خلیوں سے اور نتیجے میں خلیوں میں گلوکوز مالیکیولوں کے داخلے کی شرح کو بڑھاتی ہے۔اس کے علاوہ ، یہ ہاضمے کی نالیوں سے گلوکوز کے جذب ہونے کو کم کرنے کے لئے بھی کام کرتا ہے یعنی یہ کھانے کی نوعیت کو پست شکر اینڈیکس میں تبدیل کرتاہے۔ نہ صرف یہ، بلکہ گندم کی گھاس کا عرق تبادلے کی شرح کو بڑھا کر  اور جگر اور پٹھوں میں گلائیکوجن کی صورت میں گلوکوز کو محفوظ کرنے سے خون میں گلوکوز کو کم کرنے پر کام کرتا ہے۔ گلائیکوجن پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ کی ایک قسم ہے جسے جانور کے نشاستے سے جانا جاتا ہے، گلائیکوجن کی دستیابی مؤثر طریقے سے گلوکوز کی پست سطح کے ساتھ جڑی ہنگامی صورتحال سے بچانے میں حصہ لیتی ہے کیوں کہ گلوکوز جسم میں رسد کا ایک تیز ذریعہ ہے جب خون میں شکر گلوکوز کم ہوجائے۔. (Shaikh et.al., 2011)  
چونکہ ہم اپنے متوازی غذائی نظام پر یقین کرتے ہیں کہ کسی ایک چیز سے علاج کافی نہیں ہے باہمی تعاون کی حقیقت کی وجہ سے جسے ہم نے قرآن پاک سے دریافت کیا، جہاں تمام عبارتیں اور آیات میں غذا اور پینے کا ذکر جمع میں اور باہمی تعاون سے کیا گیا ہے نہ کہ واحد کا اور جب کہ ہماری معیادی بیماریوں کا میکانزم تبدیل ہوتا ہے، اسے مختلف مرکبات، غذاؤں اور میکانزم میں ہونا چاہئیے، جو بیماریوں کے میکانزمز کے خلاف مدافعانہ عمل کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک میں کسی ایک غذا کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ انکا  ذکر گروہوں میں کیا گیا اور اس میں میڈیکل کے باہمی تعاون کے اصول کے ساتھ مکمل ہم آہنگی ہے۔ پھر کیوں ہمیں دونوں زیتون کے تیل اور سیب کے سرکے میں جڑی بوٹیاں شامل کرنی چاہئیے؟قرآن پاک کا اس کے پیچھے کیا راز ہیں؟ 
اپنی مہارت اور تجربے کی بنیاد پر جو ہم نے قرآن پاک  میں باہمی تعاون کے اصول کو استعمال کر کے حاصل کی ہے ہم قدرتی کنواری زیتون کے تیل میں گندم کی گھاس کے عرق کے استعمال کی تجویز دیتے ہیں کیوں کہ ایک مطالعہ  جرنل آف فوڈ بائیوکیمسٹری 2011 میں شائع ہوئی جس  سے یہ ثابت ہوچکا تھا  کہ زیتون کے تیل کا فینولک مرکبات انزائم α-glucosidase اور α-amylase سے  روکتے ہوئے شکر کی سطح کو کم کرتے ہیں ۔ یہ دو انزائمز کاربوہائیڈریٹ کے ہاضمے کے ذمہ دار ہیں  اور ان کو مونوساشارائیڈز میں تبدیل کرتے ہیں اور زیتون کے تیل کے مرکب فینولک سے ایک بار روکتے ہیں جس سے خون میں مونوساشارائیڈز کم چھوڑے جاتے ہیں۔ یہ بات اہمیت رکھتی ہے کہ آنت کسی قسم کے بھی کاربوہائیڈریٹ، پروٹین اور چربیوں کو جذب نہیں کرتی ہے جب تک کہ وہ پہلے سے ہی اپنی عمارت کے بلاکوں میں ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ پس قدرتی کنواری زیتون کا تیل جو ہم گندم کی گھاس کے لئے محافظ عرق کے طور پر اپنی اشیاء میں شکر کی سطح کو پست رکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں جو کھانے کے ہاضمے سے بنتی ہے اور گلوکوز کے جذب ہونے کو کم کرتے ہوئے خون میں گلوکوز کے مالیکیولوں کو کم کرنے میں حصہ لیتے ہیں۔ (Loizzo et.al, 2011)
ہم آپ کو ہماری اشیاء کے استعمال کے لئے  تجویز کرتے ہیں جس میں قدرتی سیب کے سرکے میں گندم کی گھاس کا آبی عرق ہے کیوں کہ یہ ثابت ہوگیا تھا کہ عرق محافظ کیورسٹن پر مشتمل ہے جو کہ سیب کے بنیادی اجزاء میں سے ایک ہے۔(Boyer et.al, 2004)
کیورسٹن α-glucosidase اور α-amylase کے انزائم کے روکنے کا کام کرتا ہے جو جسم میں کاربوہائیڈریٹس کے ہاضمے کے اور خون میں گلوکوز مالیکیولوں کی پیدائش کے ذمہ دار ہیں۔یہ رکاوٹ خون میں گلوکوز اور دوسرے مونوساشارائیڈز  کے تناسب کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ (Kumar et. al., 2013)

References 

American Diabetes Association, 2010. Diagnosis and classification of diabetes mellitus. Diabetes care, 33, S62-S69.

Boyer, J. & Liu, R. H. 2004. Apple phytochemicals and their health benefits. Nutrition Journal, 3, 5.

Kumar, S., Kumar, V. & Prakash, O. 2013. Enzymes inhibition and antidiabetic effect of isolated constituents from dillenia indica. BioMed Research International, 2013.

Loizzo, M., Lecce, G., Boselli, E., Menichini, F. & Frega, N. 2011. Inhibitory activity of phenolic compounds from extra virgin olive oils on the enzymes involved in diabetes, obesity and hypertension. Journal of Food Biochemistry, 35, 381-399.

Shaikh, M., Quazi, M. & Nandedkar, R. 2011. Hypoglycemic effect of wheatgrass juice in alloxan induced diabetic rats. J Pharma Tutor, 10.


videos balancecure


اسے دیں



ہمارے خبری خطوط کی تائید کریں


تبصرے

کوئی تبصرے نہیں

تبصرہ شامل کریں

Made with by Tashfier

loading gif
feedback